سخت سردی میں جماعت اسلامی کا دھرناپوری کامیابی کے ساتھ جاری

سندھ اسمبلی 

 

پاکستان میں معاشی ابتری، بڑھتی بےروزگاری اور ہوشربا مہنگائی کے جن سے تو ہم بخوبی واقف ہی ہیں جس نے ایک جانب تو غریبوں کے گھروں کے چولھے بجھادیئے ہیں تو دوسری جانب تعلیم یافتہ طبقہ کو مایوسی کی خوفناک دلدل میں دھکیل دیا ہے جس کا اندازہ گزشتہ دو ماہ کے دوران شہر کراچی میں خودکشی کے بڑھتے واقعات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ نیز یہاں شہریوں کو ڈھنگ سے نہ تو گیس بجلی اور پانی میسر ہے اور نہ انھیں معیاری تعلیم و تربیت اورعلاج ومعالجہ کی بہتر سہولیات ہی دستیاب ہیں، علاوہ ازیں شہر کراچی میں جابجا گندگی اور کچرے کے ڈھیر اور غلاظت کے انبار بھی صوبائی  حکومت کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔


چونکہ اہلیانِ کراچی کو درپیش ان چیدہ چیدہ مسائل کا خاتمہ وقت کی اولین اور بنیادی ضرورت تھی جسے موجودہ اور گزشتہ حکومتوں کی طرف سے یکسر فراموش کیا جاتا رہا ہے لہٰذا ایسی گھمبیر صورتحال میں مرتا کیا نہ کرتا کی مصداق جماعت اسلامی نے شہریوں کے حقوق کے تحفظ کا بیڑا اٹھایا اور جماعت اسلامی کے تحت گزشتہ سال "حق دو کراچی" مہم شروع کی گئی اور اس حوالے سے جلسے جلوس اور دھرنے بھی دیئے گئے۔

دھرنے کے شرکا


چنانچہ ایسا ہی ایک وسیع و عریض دھرنا گزشتہ دو روز سے سندھ اسمبلی کے باہر بھی پورے زوروشور سے جاری ہے جس میں جماعت اسلامی کے کارکنان کے ساتھ ساتھ شہریوں کی بہت بڑی تعداد شامل ہے اور یہ تمام افراد اپنے حقوق کے حصول کے لئے انتہائی پرعزم دکھائی دیتے ہیں۔ اگرچہ بعض سیاستدان اور دانشور سخت سردی کے ایام اوریخ بستہ راتوں میں دھرنے کے پروگرام کو داشنمدانہ قرار نہیں دے رہے لیکن حقیقت یہ ہےکہ کراچی میں بسنے والے شہری اب اپنے حقوق اوربنیادی سہولیات کے حصول کے لئے ہر طرف سے ناامید ہوچکے ہیں اور وہ آر یا پار کے مصداق اب جماعت اسلامی کے اس کارواں میں شامل ہوچکے ہیں۔ اور یوں سخت ترین سردی میں بھی جماعت اسلامی کا دھرنا پوری کامیابی کے ساتھ جاری ہے۔


حافظ نعیم الرحمٰن دھرنے کے شرکاسے خطاب کرتے ہوئے


دوسری جانب جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن بھی دیگر کارکنان کے ساتھ نہ صرف سندھ اسمبلی کے باہر موجود ہیں بلکہ دھرنے کے حوالے سے انتہائی پرعزم اور پرجوش بھی دکھائی دیتے ہیں۔ حافظ نعیم الرحمٰن نے دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم سندھ اسمبلی کے کالے بلدیاتی قانون کو یکسر مسترد کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ یہاں براہ راست میئر منتخب کرکے بااختیار شہری نظام حکومت قائم کی جائے۔


حافظ نعیم الرحمٰن کہتے ہیں کہ اہلیان کراچی کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کیا جارہا ہے جس کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ ماضی میں کراچی میں پبلک ٹرانسپورٹ کے ساتھ ساتھ سرکلر ریلوے بھی چلتی تھی لیکن نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ شہر کراچی میں اب حکومت کی ایک بس بھی نہیں  چلتی حالانکہ کراچی شہر نہ صرف پورے ملک کی معیشت کو سنبھالا دے رہا ہے بلکہ یہاں کی تاجر برادی بشمول شہری انگنت ٹیکسز کی مد میں بھی حکومت کو جبراً کروڑوں روپے فراہم کرتے ہیں لیکن جب بنیادی حقوق اور سہولیات کی بات آتی ہے تو ان کا کہیں کوئی اتا پتہ نہیں ہوتا۔ حد تو یہ ہے کہ کراچی میں ہر روز سینکڑوں افراد بشمول بچوں کو کتے کاٹ لیتے ہیں لیکن المیہ یہ ہے کہ انھیں ادویات تک فراہم نہیں کی جاتیں جس کے سبب گزشتہ صرف ایک ماہ کے دوران ہزاروں بچے جاں بحق ہوچکے ہیں۔

دھرنے کی جھلکیاں



امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ ہم کوٹہ سسٹم میں توسیع کے خلاف ہیں کیونکہ اس سے کراچی کے نوجوان اور تعلیم یافتہ افراد ملازمتوں سے یکسر محروم رہ جاتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ کراچی کی تین کروڑ سے زائد اور اصل آبادی کو جعلی اور بوگس مردم شماری کے ذریعہ بہت کم دکھایا گیاہے۔ اس وقت اہلیان کراچی پینے کے صاف پانی کی بوند بوند کو ترس گئے ہیں لیلکن صوبائی اور وفاقی حکومتوں پر جوں تک نہیں رینگی۔ لہٰذا ہم ایک ایسے قانون کا مطالبہ کرتے ہیں جس میں  کراچی کے جملہ ادارے میئر کے ماتحت کام سرانجام دیں۔



دھرنے میں شریک ارکان پرجوش موڈ میں


اگرچہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں سال نو کو عموماً بڑے جوش وخروش اور دھوم دھام سے منایا جاتا ہے البتہ اس مرتبہ پاکستان میں معاشی ابتری اور حکومتی ناکامی کے باعث اس مرتبہ اہلیان کراچی اپنے حقوق کے تحفظ کے لئے سال نو منانے کے بجائے جماعت اسلامی کا دھرنا کامیاب بنانے کو فوقیت دے رہے ہیں جس کا اندازہ اس بات بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ دھرنے کے دوسرے دن بھی کراچی کے مختلف علاقوں سے پورے جوش و خروش کے ساتھ لوگوں کی آمد کا سلسلہ جاری رہا۔ شہریوں کو بنیادی حقوق کی فراہمی کے حوالے سے گزشتہ اور موجودہ حکومت کی غیرسنجیدگی کے باعث یہ دھرنا طول پکڑسکتا ہے لیکن اس کے باوجود مقامی افراد گیس، بجلی، پانی، علاج ومعالجہ کی بہتر سہولیات، معیاری تعلیمی اداروں اور سستی رہائش گاہوں سمیت انگنت مسائل کے حل کے لئے جماعت اسلامی سے امیدیں وابستہ کئے بیٹھیں ہیں۔

تبصرے