شہتوت ایک مفید اور مقوی پھل ہے جس میں وٹامن سی کی بڑی وافر مقدار پائی جاتی ہے جس سے ہمارے جسم میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس کی تعداد میں خاطرخواہ اضافہ ہوتا ہے اور یوں ہم مختلف قسم کے انفیکشنز سے محفوظ رہ پاتے ہیں۔ وٹامن سی کے ساتھ ساتھ شہتوت میں کیروٹین، پیسٹین، فائبر اور منرلز بھی پائے جاتے ہیں چنانچہ ان کے استعمال سے ہمیں نزلہ زکام، ٹانسلز، سردرد اور کھانسی وغیرہ سے بھی نجات مل جاتی ہے۔
حکما کہتے ہیں کہ سفید شہتوت عمدہ خون پیدا کرتے ہیں، دماغ کی خشکی دور کرکے اسے تفریح پہنچاتے ہیں۔ بھوک بڑھاتے اور جسم کو تیار کرتے ہیں۔ یہ مقوی باہ ہونے کے ساتھ ساتھ مقوی معدہ بھی ہیں اسی لئے قبض کو دور کرتے ہیں۔ شہتوت کا شربت گلے کے درد اور خراش کے لئے نہایت مفید ہے۔ اسی طرح ان کے پتوں کے جوشاندے سے غرارے کرنے سے گلے کے درد کو آرام ملتا ہے۔ نیز ان پتوں کے جوشاندے سے کلی کرنے سے دانتوں اور مسوڑھوں کا درد بھی ختم ہوجاتا ہے۔
شہتوت سیاہ بار بار پیاس لگنے کی شکایت کو دور کرتے ہیں۔ گرمی سے حلق میں ورم ہوجائے تو اسے تحلیل کرتے ہیں۔ نزلہ زکام اور گلے سے بلغم کا خاتمہ کرتے ہیں۔ نیزان میں وٹامن اے اور وٹامن ای بھی پایا جاتا ہے جو ہماری جلد کو تروتازہ اور شفاف بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
خالی پیٹ شہتوت کھانے سے معدہ صاف ہوتا ہے اور یہ غذا کو جلد ہضم ہونے میں مدد دیتے ہیں۔ البتہ پیٹ بھرا ہوا ہو تو نظام انہضام کو نقصان پہنچاتے ہیں اس لئے شہتوت کی تمام اقسام کو خالی پیٹ کھانا چاہیے۔ شہتوت کا شربت گرمی سے پیدا شدہ نزلے اور سینے کے درد کے لئے مفید ہے۔
اطبا کہتے ہیں کہ پکے ہوئے شہتوت ہاضم ہیں اور ہمارے اعصابی نظام کو مضبوط بناتے ہیں جس سے ہمارا مدافعتی نظام بہترہوجاتا ہے۔ شہتوت گلے اور منہ کے چھالوں کو ختم کرتے ہیں اور ان کے شربت سے بخار میں ہونے والی بے چینی اور گھبراہٹ دور ہوجاتی ہے۔ اسی طرح شہتوت کے شربت میں پیپل کا سفوف ملا کر پلانے سے بھی ہاضمے کی کمزوری دور ہوتی ہے۔
شہتوت کے رس میں قلمی شورہ پیس کر ناف پر لیپ کرنے سے پیشاب کی رکاوٹ ختم ہوجاتی ہے۔ شہتوت کے درخت کے پتے، جڑ اور نرم ڈالیوں کو جوش دے کر اس سے غرارے کرنے سے زبان اور حلق کی سوجن دور ہوجاتی ہے۔ دوسری جانب سوکھے ہوئے شہتوت پیس کر اس کی روٹی بنا کر کھانے سے جسم تندرست و توانا ہوجاتا ہے۔ اس کے ہزار گرام پتے صبح اور ہزار گرام شام کو کھلانے سے گائے کا دودھ بڑھ جاتا ہے۔
از حکیم محمد عبدالقیوم خان
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں