| پرسکون ماحول میں فشنگ کرتے شکاری کا خوبصورت انداز |
اس میں کوئی شک نہیں کہ مچھلی پکڑنا یعنی فشنگ کرنا ایک نہایت ہی دلچسپ اور پُرلطف مشغلہ ہے لیکن صحیح معنوں میں شکار کا حقیقی مزہ ان شکاریوں سے پوچھیں جن پر شکار کا نیا نیا جنون سوار ہوا ہو۔ چنانچہ وہ مچھلیاں پکڑنے میں اس قدر منہمک اور مگن ہوجاتے ہیں کہ کئی کئی گھنٹے گزرجانے اور اناڑی پن کے سبب چارے کا بیشتر حصہ گنوادینے کے باوجود ہمت نہیں ہارتےاور پورے ذوق و شوق کے ساتھ چھوٹی چھوٹی مچھلیوں کو چارہ کھلانے اور اتفاقیہ طور پر کوئی چنی سی مچھلی ہاتھ آجانے پر خوشی سے پھولے نہیں سماتے اور اپنی مسرت کا یوں اظہار کرتے ہیں کہ جیسے انھوں نے نجانے کتنا بڑا تیر مارلیا ہو۔
| چلو ایک مچھلی تو آئی |
یہ بات بھی اکثر مشاہدے میں آئی ہے کہ عموماً شکاریوں کو دھوپ چھاوں ، سردی گرمی ، تھکن اور بھوک وغیرہ کا احساس تک نہیں ہوتا البتہ انھیں اس بات کا غم بڑی شدت کے ساتھ رہتا ہے کہ آخر اب تک مچھلی ڈور میں پھنسی کیوں نہیں ۔ دوسری جانب جب وہ تھکن سے چور خالی ہاتھ گھر لوٹتے ہیں تو کچھ ہی دیر میں نیند کی وادیوں میں جاسوتے ہیں۔
ایسے ہی کئی حسین اتفاقات ہمارے ساتھ بھی گزرے ہیں کہ بار بار شکار پر جانے اور پورا پورا دن یہاں تک کہ رات تک شکار میں کالی کردینے کے باوجود ہمارے ہاتھ کچھ نہ آتا اور ہم یونہی خالی ہاتھ گھر پہنچ جاتے جہاں گھر والوں کی متلاشی نگاہیں ہم سے کہیں زیادہ مچھلیوں کی کھوج میں ہوتیں۔ مگر ہم بھی انھیں کسی نہ کسی طرح مطمئن کرنے کا فن جانتے ہی تھے اور پھر کچھ ہی ہفتوں بعد اگلی مرتبہ کے لئے ازسر ِنو فشنگ پر جانے کا پروگرام بنارہے ہوتے۔
آہ، وہ بھی کیا دن تھے جب فکر نہ فاقہ، عیش کر کاکا کی مصداق ہم اپنے روزمرہ ایام سیر سپاٹے اور مختلف مشغولیات میں گزارا کرتے تھے۔ مگر سچی بات تو یہ ہے کہ مچھلیاں پکڑنا ہمیں تو اب سراسر وقت اور پیسے کا ضیاع ہی لگنے لگا ہے حالانکہ ہم اپنے تئیں لڑکپن میں ایسے "ماہر شکاری" تھے کہ جن کے ہاتھ سوائے افسوس اور شدید تھکن کے کچھ نہیں آتا تھا۔
معلوم نہیں ایسا مشکل اور تھکا دینے والا مشغلہ ہم اناڑیوں کے گلے کہاں سے پڑجاتا ہے جس میں وقت کے ضیاع کے علاوہ کچھ حاصل یا وصول نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر میرے خالہ زاد بھائی جنھوں نے اپنی پوری جوانی مچھلیاں پکڑنے میں ہی گزاردی، ہماری اُن کے ساتھ اکثر فشنگ کے حوالے سے گپ شپ رہتی تھی۔ چنانچہ اسی حوالے سے ہماری گفتگو جاری تھی کہ کسی بات پر انھوں نے بڑے فخر سے فرمایا کہ "شکاری تو میں اب بنا ہوں!" اور واقعی اس قدر طویل عرصے بعد شکاری تو انھیں بننا ہی تھا۔
اور اس معاملے میں انھوں نے اس مفروضے کو غلط ثابت کردکھایا کہ فشنگ سراسر وقت اور پیسے کا ضیاع ہے کیونکہ اب وہ بڑی بڑی مچھلیوں کو شکار کرکے نہ صرف خود کھاتے ہیں بلکہ پاس پڑوس اور رشتہ داروں کو بھی بھیجتے ہیں ۔ اور یہاں تک کہ کئی مواقع پر پکڑی گئی کسی بڑی مچھلی کو وہیں فروخت بھی کردیتے ہیں۔ البتہ اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ مچھلی پکڑنے میں کس قدر محنت ، وقت اور پیسہ صرف کرنا پڑتا ہے تب کہیں جاکر بندے کو فشنگ کی الف ب سمجھ آتی ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں