| سورۃ الخلاص |
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ اخلاص کو ایک تہائی قرآن مجید کے برابر قرار دیا ہے اور یہ حدیث بخاری اور مسلم شریف میں مذکور ہے۔ اسی طرح ترمذی، حاکم، مالک، نسائی کی حدیث ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو آخر تک سورۃ الاخلاص پڑھتے ہوئے سنا تھا فرمایا کہ واجب ہوگئی۔ پوچھا گیا کہ کیا واجب ہوگئی؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنت واجب ہوگئی۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھنے والےسے فرمایا کہ سورۃ اخلاص کی محبت تجھے جنت میں لے گئی۔ (سبحان اللہ)
حضرت جبرائیل امین معہ 70 ہزار فرشتوں کے آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس قدر احترام و اکرام کی وجہ پوچھی تو حضرت جبرائیل ؑ نے فرمایا کہ یہ چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے، سفروحضر میں سورۃ اخلاص پڑھا کرتے تھے۔ (بہیقی)
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ الاخلاص اور معوذتین یعنی (سورۃ الفلق اور سورۃ الناس) رات کو سوتے وقت پڑھ کر ہاتھوں پر دم کرکے تمام بدن پر پھیرتے تھے۔ بعض علمائے کرام فرماتے ہیں کہ جس شخص نے اس سورت کو اپنی زندگی میں ہمیشہ پڑھا تو اسے دنیا و آخرت میں خیر اور بھلائیاں حاصل ہوں گی اور وہ ہر قسم کی برائی سے محفوظ رہے گا۔ نیز بھوکا پڑھے گا تو خوب پیٹ سیر ہوگا جبکہ پیاسا پڑھے گا تو خوب سیراب ہوگا۔
سورۃ الاخلاص میں اسمائے حسنیٰ میں سے ایک اسم "صمد" بھی موجود ہے اور یاصمد کا ورد کرنے والا کبھی بھوکا پیاسا نہیں رہتا۔
بزرگانِ دین فرماتے ہیں کہ سورۃ اخلاص کو گھر میں داخل ہوتے وقت پڑھیں تو رزق میں برکت اور فراوانی آتی ہے اور غربت دور ہوجاتی ہے۔ نیز جو شخص مرض الموت میں سورۃ اخلاص پڑھے گا تو انشااللہ وہ قبر کے فتنے سے محفوظ رہے گا، قبر اسے نہیں بھینچے گی اور فرشتے اسے اٹھا کر پل صراط پار کرادیں گے۔
اللہ رب العزت ہمیں زیادہ سے زیادہ سورۃ اخلاص پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں