| میٹھا میٹھا ہے میرے محمدﷺ کا نام! |
بلاشبہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان بیان کرنے والے نے اپنی نعت پاک میں محمد کے نام کی صحیح طریقے سے ترجمانی کا فریضہ سرانجام دیا ہے۔ محمد نام دراصل اس عظیم نام کو کہتے ہے جس کے لفظی معنی ہی بکثرت تعریف کئے جانے کے ہیں۔ یعنی محمد ایک ایسا متبرک اور افضل نام ہے جس کی تعریف و توصیف تمام روئے زمین اور آسمان والوں پر واجب کردی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ محمد نام کی شیرنی اور مٹھاس احمد کے علاوہ کسی اور نام میں نہیں ملتی جبکہ احمد بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی اسم مبارک ہے۔
شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں اسمائے مبارک حقیقت میں ایک اسم ہیں جو حمد سے مشتق ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حق تعالیٰ کی حمد افضل محامد سے کرتے ہیں اور دنیا و آخرت میں کثرت محامد سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حمدوستائش کی گئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم۔۔۔احمد الحامدین(حامدین میں سب سے بڑے حامد اور سب سے زیادہ تعریف کرنے والے)۔۔۔ احمدالمحمودین (تمام تعریف کئے جانے والوں میں سب سے زیادہ تعریف کئے گئے)۔۔۔ وافضل من حمد (تمام تعریف کرنے والوں میں سب سے برتر وافضل تعریف کرنے والے) ہیں۔ (مدارج النبوۃ جلد اول باب ہفتم)
حافظ سہیلی ترجمان السنۃ میں رقم فرماتے ہیں کہ محمد کے وزن میں ہمیشہ تکرارکے معنی ملحوظ ہوتے ہیں اس لئے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کو کہا جائے گا جس کی بار بار تعریف کی جائے۔ (ترجمان السنۃ 252/1)
اور حقیقت میں بھی بالکل ایسا ہی ہے کیونکہ اللہ رب العزت نے بذات خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف بیان کی ہے۔ اسی طرح انبیائے کرام سے لے کر جن وانس، حیوانات و جمادات، غرض خشکی و تری کی تمام تر مخلوقات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مداح ثنا ہیں اور ہر ایک جنس کی تعریف کا انداز نرالا ہے۔ اور بےشمار زبانیں ہمہ وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف و توصیف کے لئے متحرک رہتی ہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق ایک عربی شاعر نے چالیس برس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں قصیدے و اشعار لکھنے میں گزاردیئے اور اپنے دیوان میں پچاس ہزار اشعار عربی زبان میں درج کئے۔ لیکن اس شاعر نے اپنا آخری شعر کچھ اس انداز میں لکھا جس کا اردو ترجمہ کسی شاعر نے یوں کیا ہےکہ۔۔۔
تھکی ہے فکر رسا مدح باقی ہے
قلم ہے آبلہ پا مدح باقی ہے
ورق تمام ہوا مدح باقی ہے
تمام عمر لکھا مدح باقی ہے
سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص کی بیوی حمل سے ہو اور وہ نیت کرلے کہ ہونے والے بچے کا نام محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر محمد رکھوں گا تو چاہے وہ بچہ لڑکی ہی کیوں نہ ہو اللہ تعالیٰ اس کو لڑکا بنادیتا ہے۔ اس حدیث مبارکہ کے راویوں میں سے ایک نے کہا کہ میں نے اپنی ہاں سات مرتبہ یہ نیت کی اور سب بچوں کا نام محمد ہی رکھا۔ یعنی ہر بار اس حدیث کی سچائی سامنے آئی اور ہر بار لڑکا ہی پیدا ہوا لہٰذا میں نے نیت کے مطابق ہر ایک کا نام محمد ہی رکھا۔ (سیرت حلبیہ ج ا ص 268) سبحان اللہ
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں