خاندانی نظام کو توڑنے کی سوچی سمجھی سازش

ہم سب ساتھ ہیں!


 خاندانی نظام کسی بھی معاشرے کی بنیادی اکائی ہوا کرتا ہے یعنی کئی مختلف خاندانوں کے ملاپ سے ایک معاشرہ تشکیل پاتا ہے جس کے توسط سے آگے چل کرایک مضبوط ومستحکم نظام کی بنیاد قائم ہوتی ہے۔ ایک خاندان دراصل اپنی روایات اور مخصوص ثقافت سے ہی پہچانا جاتا ہے جہاں اپنے عزیزواقارب اور رشتے داروں کے ساتھ باہمی ہمدردی اور ممکن تعاون کو فروغ حاصل ہوتا ہے۔ شادی بیادہ ،دکھ تکلیف اور کسی غیر متوقع صورتحال میں ان کی دادرسی کی جاتی ہے۔ چنانچہ اس طرح ایک معیاری خاندانی نظام کی ضرورت وافادیت کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

 

بدقسمتی سے دیگر ممالک کی مانند آج پاکستان میں بھی خاندانی نظام ڈانواں ڈول نظر آتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ماضی کے مقابلہ میں آج کا خاندان اپنے رشتہ داروں اور عزیزواقارب سے اچھے مراسم قائم کرنے اور رشتے ناطے نبھانے میں یکسر تبدیل ہوکر رہ گیا ہے۔ آج کی تیزرفتار زندگی میں ہر ایک اپنی دھن میں مگن جبکہ رشتہ داروں سے دور ہوتا چلا جارہا ہے۔


اگرچہ دیہی علاقوں میں اب بھی خاندانی روایات اور طور طریقوں کی کچھ حد تک پاسداری باقی رہ گئی ہے لیکن شہری لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ اپنے قریبی رشتہ داروں سے کئی کئی ماہ و سالوں تک نہیں ملتے۔ نہ ہی انھیں رشتہ داروں کے دکھ درد اور مشکلات وپریشانیوں کی کچھ خبر ہوتی ہے۔ اور حد تو یہ ہے کہ انھیں اپنے گھر والوں کی بھی کچھ زیادہ پرواہ نہیں رہتی۔ مختلف قسم کی غلط فہمیاں ان کے دلوں میں پروان چڑھتی رہتی ہیں اور بالآخر ایک دوسرے سے دوری کا سبب بن جاتی ہیں۔


مل کر خوشیاں بانٹیں!


خاندانی نظام کے غیرمستحکم ہونے کی وجوہات کیا ہیں؟


اس کی سب سے بڑی وجہ ہوشربا مہنگائی اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کا حد سے زیادہ بڑھ جانا  ہے۔ جس کی وجہ سے آج ہرشخص کو اپنی روٹی روزی کے لالے پڑگئے ہیں اور وہ صرف اپنے گھر والوں کی کفالت کا فریضہ ہی ٹھیک طور پر انجام دے لے تو اس کے لئے بڑی بات ہے۔


 درحقیقت یہ مہنگائی قدرتی نہیں بلکہ مصنوعی ہے جس کے پیچھے اغیار کا یہ جذبہ کارفرما ہے کہ مسلم ممالک میں لوگوں کو معاش اور روزگار کی الجھنوں کے چکروں میں قدرغرق کردیا جائے اور وہاں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اس قدر اضافہ کردیا جائے کہ وہ عوام کی پہنچ سے دور ہوجائیں۔ چنانچہ اس طرز عمل سے نہ صرف مسلمانوں کی معاشی حالت ابتر ہوگی، ان کا خاندانی نظام ٹوٹے گا۔ بلکہ جاب اور ملازمتوں کے چکر میں وہ کسی موثر مذہبی جماعت کے پلیٹ فارم سے بھی نہں جڑپائیں گے اور اس کے نتیجہ میں اپنے علاقے، شہر اور ملک کی تعمیروترقی کے لئے کچھ سوچنے کے بجائے محض معاشرے میں اپنے قدم جمانے کی تگ ودو میں مصروف عمل رہیں گے۔ چنانچہ آج سوائے افغانستان کے، پاکستان سمیت دنیا کے بیشتر اسلامی ممالک نہ صرف لادینی قوتوں کے زیراثر آچکے ہیں بلکہ ان کی من چاہی شرائط پر بھاری سودی قرضوں کےعوض اپنے اپنے نظام حکومت چلا رہے ہیں۔


پاکستان میں خاندانی نظام کا شیرازہ بکھرنے کی دوسری بڑی وجہ یہاں اسلامی کے سنہری اصولوں اور ضابطہ اخلاق کا پرچار کرنے کے بجائے ماڈرن ازم اور تیزی سے بڑھتی فحاشی و عریانی کو فروغ دیا جانا ہے۔ اسمارٹ موبائل فونز کے ذریعہ نوجوان نسل کو مذہب سے بیگانہ کرنے اور انھیں گمراہ کرنے کی ایک سوچی سمجھی سازش ہے جس پر یہودوہنود عمل پیرا ہیں۔ اور اپنی مغربی تہذیب و تمدن اور ننگی ثقافت کو مسلم دنیا میں بھی عام کرنے کے خواہاں ہیں۔ چنانچہ ان کی فلموں اور ڈراموں سے متاثر ہوکر ہماری نوجوان نسل خود کو بے تحاشا نقصان پہنچاچکی ہے یہاں تک کہ تباہی وبربادی کی دہلیز تک جاپہنچی ہے جس کا اندازہ آئے دن مختلف شہروں میں چھوٹے چھوٹے معصوم بچے بچیوں کے ساتھ جنسی درندگی اور خواتین کی عصمت دری کے تیزی سے بڑھتے واقعات سے باآسانی لگایا جاسکتا ہے۔ 



لہٰذا بحیثیت پاکستانی ہمارا فریضہ ہے کہ پاکستان میں خاندانی نظام کو ٹوٹنے سے بچانے کے لئے دشمنوں کی چالوں کو کامیاب نہ ہونے دیں اور مسلمان ہونے کے ناطےمغرب کی گندی تہذیب سے متاثر ہونے کے بجائے اسلام کے اصول وقوانین کو اپنانے اور اس کے نفاذ کے لئے عملی کوشش بھی کریں۔

تبصرے