| کدو ایک مکمل غذا ہے جبکہ اور کسی غذا میں یہ خاصیت نہیں پائی جاتی |
جب رب کائنات نے حضرت یونس علیہ السلام کی توبہ قبول کی اور مچھلی نے انھیں سمندر کے کنارے اگل دیا تو اللہ تعالیٰ نے سورج کی تمازت سے بچانے کے لئے اپنے پیارے بندے پر اسی بیل کا سایہ کردیا تھا۔
ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی لوکی (کدو) بہت مرغوب تھی۔ اور یہ واقعہ تو بہت مشہور ہے کہ کسی صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کی اور انھوں نے گوشت میں لوکی پکائی ہوئی تھی۔ مگر اتفاق سے لوکی کڑوی تھی جس کا ان صحابی رسول کو علم نہ تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانے کے دوران صرف روٹی سے لوکی ہی کھائی یہاں تک کہ ساری لوکی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھا کر ختم کردی تاکہ اہل خانہ کو اس بات کا پتہ نہ چل جائے کہ لوکی کڑوی تھی۔ سبحان اللہ کیا خوبصورت شان تھی ہمارے نبی مہربان صلی اللہ علیہ وسلم کی۔
روزمرہ کھانوں میں لوکی ہماری ایک اہم غذا ہے جس کی کئی اقسام ہیں جن میں کدو، ماڑو کدو اور پیٹھا وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ البتہ کدو اس قدر مفید ہے کہ اس کے فوائد پر حیرت ہوتی ہے۔ چنانچہ کدو کے ان فوائد پر 20 برسوں کی ریسرچ کرنے والے ایک اسرائیلی ڈاکٹر نے 2012 میں تل ابیب میں بورڈ آف ڈائریکٹرز کے روبرو کدو سے متعلق اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا تھا کہ کدو ایک مکمل غذا ہے جبکہ اور کسی غذا میں یہ خاصیت نہیں پائی جاتی۔ نیز کدو میں ایسے حیران کن اجزا پائے جاتے ہیں جو کسی بھی بیماری کے آخری درجہ یعنی لاسٹ اسٹیج میں بھی نہایت موثر اور کامیاب ثابت ہوتے ہیں۔
چنانچہ انھوں نے بتایا کہ ہم نے کینسر کے لاسٹ اسٹیج کے مریض میں کدو سے تیار کردہ پیٹھا کدو
ویکسین انجیکٹ کی جس سے کینسر کا مریض معجزاتی طور پر صحت یاب ہوگیا۔ ان کا ماننا تھا کہ کسی بھی شدید ترین بیماری یا وبائی امراض میں کدو کے ذریعہ شفا حاصل کی جاسکتی ہے۔
اطبائے طب کہتے ہیں کہ لوکی نہ صرف پیاس بجھاتی ہے بلکہ جگر کی گرمی کو دور کرنے کےساتھ ساتھ جسم کی خشکی ختم کرکے سدے کھولتی اور پیشاب زیادہ لاتی ہے۔ قبض کے لئے نہایت مفید ہے اور اسے کھانے سے کھل کر اجابت ہوتی ہے۔ دوسری جانب کدو کھانے سے سرد مزاج والوں کے پیٹ میں گیس پیدا کرتا ہے۔
جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ لوکی معدے اور آنتوں کی خشکی دور کرکے انہیں نرم کرتی ہے اور قبض کا خاتمہ کرتی ہے لیکن دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ لوکی نیند کی کمی یا نیند نہ آنے کی شکایت کو بھی دور کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ اور اس کے استعمال سے بے خوابی کی علامات ختم ہوجاتی ہیں۔
علاوہ ازیں لوکی بعض دماغی امراض میں بھی مفید ہے اور تازہ لوکی یا کدو سونگھنے سے دماغ کو فرحت و تسکین ملتی ہے۔ اسی طرح کچے کدو کا رس نکال کر روغن گل ملا کر یا صرف کدو کے رس کو کان میں ٹپکانے اور کپڑا بھگو کر سر پر رکھنے سے گرمی سے پیدا شدہ سر درد، اور بے خوابی سے نجات حاصل ہوتی ہے۔
کدو کی بیل کے پتے دست آور ہیں اور ان پتوں کو جوش دے کر پینے سے یرقان دور ہوجاتا ہے۔ اسی طرح کدو کو جلا کر اس کی راکھ آنکھ میں لگانے سے آنکھوں کے امراض دور ہوتے ہیں۔ نیز کدو کا رس تیل میں ملا کر اس سے سر کی مالش کرنے سے بھی کئی بیماریوں کاخاتمہ ہوجاتا ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں