کوشش میری تعاون اللہ کا ہے

 میں نے اپنی پوری کوشش کی ہے باقی جو خدا کو منظور

 

کوشش میری تعاون اللہ کا ہے،  کہنے کو تو یہ ایک جملہ ہے مگر جب اس کی گہرائیوں میں چھپے معنی ومفہوم پر نگاہ دوڑائی جائے تو اس سے کہنے والے کے ایمان کی پختگی اور اللہ کی ذات پرکامل بھروسہ کی کیفیت کا پتہ چلتا ہے۔


بعض لوگ اپنے اہم ترین کاموں کو بھی بڑے ہلکے پھلکے انداز میں سرانجام دینے کے عادی ہوتے ہیں۔ قطع نظر اس کے کہ کام کس نوعیت و اہمیت کا ہوتا ہے، وہ اپنی سرشت کے مطابق کسی بڑے پروجیکٹ کو بھی اپنے اوپر حاوی نہیں ہونے دیتے۔ اپنے کام کو پایہ تکمیل  تک پہنچانے کے لئے مادی وسائل کو مستحسن طریقہ سے بروئے کار لاتے ہیں اور بالآخر کامیاب ہوجاتے ہیں۔


جبکہ دوسری جانب بعض افراد اپنے چھوٹے چھوٹے کاموں کو پورا کرنے کے لئے بھی نہ صرف کافی سوچ بچار سے کام لیتے ہیں بلکہ وقت پر کسی کام کو سرانجام دینے کے لئے قبل ازوقت ہی جلد بازی دکھانا شروع کردیتے ہیں۔ یعنی وہ کسی امر کا ضرورت سے کچھ زیادہ ہی ذہنی تناو لے رہے ہوتے ہیں حالانکہ اسٹریس لینے سے اپنی ذات کو نقصان پہنچانے کے سوا انھیں کچھ حاصل نہیں ہوتا اور درحقیقت ہوتا وہی ہے جو صرف اللہ تبارک وتعالیٰ چاہتا ہے۔

اللہ کے سوا کون ہے جو اس ننھے سے پودے کو پیدا کرسکتا ہے ؟ 


اگرچہ اپنے دنیاوی کاموں کوپورا کرنے کے لئے بندہ بشر وسائل اور موزوں اسباب اختیار کرتا ہے جن کی تکمیل یا ادھورے رہ جانے کے عمل سے قطع نظر اہمیت صرف اس بات کی ہوتی ہے کہ اس بندے کی نیت اور عقیدہ کیا تھا؟ بعض اوقات بہت سے کام جنھیں ہم لوگوں کی فلاح و بہبود کے لئے سمجھ رہے ہوتے ہیں دراصل وہ محض دنیاوی نام و نمود اور عیش وعشرت کے حصول کی خاطر شروع کئے جاتے ہیں۔ جبکہ بہت سے طرز عمل ایسے ہوتے ہیں جن کا سب لوگوں کی موجودگی میں کرنا معاشرے کی بہتری کے لئے زیادہ موزوں ہوتا ہے مثال کے طور پر صدقہ و خیرات وغیرہ کو لوگوں کے سامنے دینے سے دوسرے افراد کو بھی اس کی ترغیب ہوتی ہے۔ اسی طرح ظالم اور کرپٹ حکومت وقت کے خلاف اجتماعی سطح پر آواز بلند کرنا انفرادی سطح پر آواز اٹھانے سے کہیں زیادہ اہمیت اور وزن رکھتا ہے۔


چنانچہ دیکھنا چاہیے کہ اپنے کام کو انجام دینے کے لئے ہماری نیتیں اور مقاصد کیا ہیں۔ اگر تو اس میں لوگوں کی فلاح وبہبود اور فوائد پوشیدہ ہوں تو اسے پوری دلجمعی اور استقامت کے ساتھ جاری و ساری رکھنے کی سعی کرنی چاہیے۔ اور اس کے بعد نتیجہ صرف اور صرف اللہ کی ذات پر چھوڑ دینا چاہیے، وہ چاہے گا تو اس کام کو پایہ تکمیل تک پہنچادے گا نہ چاہے گا تو کسی دوسرے کام یا وسیلے کے ذریعہ اس مقصد کو پورا فرمادے گا۔ بہرحال ہمیں کسی بھی کام میں مایوسی کو اپنے قریب آنے نہیں دینا چاہیے اور بحیثیت مسلمان کسی قدم پر بھی امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔

تبصرے