دارچینی کھائیں جان بنائیں !

 دارچینی (Cinnamon)

 

اسے مارواڑی، ہندی اور پنجابی میں دال چینی جبکہ اردو میں دارچینی کہا جاتا ہے اور اس کا استعمال عموماً مختلف کھانوں میں کیا جاتا ہے۔ دارچینی کا مزاج گرم وخشک ہے اوریہ نہایت مقوی باہ ہے۔ دارچینی اپنی لطافت کی بدولت باآسانی پٹھوں (مسلز) میں پہنچ کراپنی گرمی کے سبب فائدہ پہنچاتی ہے اور گیسٹرول کو بھی کنٹرول کرتی ہے۔


دارچینی خون صاف کرتی اور طبیعت کو سکون پہنچاتی ہے۔ اس میں پیشاب اور حیض جاری کرنے کے علاوہ بواسیر کے درد کنٹرول کرنے کی صلاحیت بھی موجود ہے۔ نیز یہ جسمانی و اعصابی قوت میں بھی خاطر خواہ اضافہ کرتی ہے۔ علاوہ ازیں دارچینی اعضائے رئیسہ اور معدہ کو بھی نفع پہنچاتی ہے۔ اسی طرح سینے اور گلے میں موجود بلغم کا خاتمہ کرتی ہے، گلے کی خراش دور کرکے آواز کو صاف کرتی اور منہ کی بو کو ختم کردیتی ہے۔


پیشانی پر دارچینی کا لیپ کرنے سے سردی سے پیدا ہونے والا سردرد دور ہوجاتا ہے۔  اسی طرح آنکھ یا پلک پھڑک رہی ہو تو بھی اس کا لیپ لگانے سے فائدہ ہوتا ہے جبکہ اسے آنکھ میں لگانے سے آنکھوں کا جالا کٹتا اور بصارت کو فائدہ پہنچتا ہے۔


دارچینی دماغ کو بھی قوت فراہم کرتی ہے اور اس کے استعمال سے لقوہ اور بھولنے کا عارضہ دور ہوجاتا ہے۔ وہ افراد جن کے معدے میں سردی کا اثر غالب ہو ان کے لئے دارچینی سے بڑھ کر کوئی دوا نہیں جبکہ اسے مصطگی کے ساتھ جوش دے کر پلانے سے ہچکیاں اور ابکائیاں  آنا بند ہوجاتی ہے۔


دارچینی کا عرق بھی نہایت سریع الاثر  ہے، اس کے ڈراپس کان  میں ڈالنے سے قوت سماعت بہتر ہوتی ہے۔ جبکہ اس عرق کو پینے سے پیٹ کی گیس خارج ہوتی اور قوت ہاضمہ بڑھ جاتی ہے۔ اس کا ہاضم عرق عموماً طلا کے نسخوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ مقدار خوراک 7 سے 10 ماشہ تک اور عرق دو ڈراپس سے پانچ ڈراپس تک ہے۔


دارچینی، الائچی اور تیزپات کے مکسچر کا جوشاندہ پلانے سے پیٹ کی مروڑ کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ اس کا سفوف دانتوں پر ملنے سے دانتوں کا درد بند ہوجاتا ہے۔ دارچینی اور لونگ کا جوشاندہ پلانے سے ابکائیاں اور الٹیاں آنا بند ہوجاتی ہیں جبکہ اس کے سفوف کو شہد کے ساتھ استعمال کرنے سے بھی یہی فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ نیز دارچینی اور صندل ہموزن پیس کر نیم گرم پانی میں ملائیں اور سر میں لیپ کریں تو سردرد دور ہوجاتا ہے۔

تبصرے