کیا انسان سد ا کا بھوکا ہے؟

 

بھوک سے بے تاب ایک بچے کی جیتی جاگتی تصویر


کیا انسان سدا کا بھوکا ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو کافی غور طلب ہے کیونکہ جب انسان کو بھوک لگتی ہے تو وہ کھانے کو مانگتا ہے اور اگر کئی وقت کا کھانا نہ ملے تو نڈھال ہوجاتا ہے۔ دوسری جانب اگر کسی ایک وقت کا کھانا بھی اسے ٹائم پر نہ مل سکے تو وہ غصہ اور اشتعال میں مبتلا ہوجاتا ہے۔


لیکن یہ سوال ابھی تک وہیں ہے کہ کیا آیا انسان سدا کا بھوکا ہے یا نہیں۔ اس کا جواب جاننے کے لئے ہم اپنی پیدائش کے وقت سے لے کر آج تک کے مراحل پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہوگا کہ جب ہم پیدا ہوئے تو تب بھی بھوکے تھے اور آج بھی بالکل اپنی پیدائش کی مانند بھوکے ہیں۔ اور جب تک ہمیں وقت پر کھانا پینا ملتا رہے تو ہم چین و سکون سے رہ پاتے ہیں اور نہ ملے تو غم، فکر اور صدمے سے نڈھال ہوجاتے ہیں۔


درحقیقت قدرت کی جانب سے انسان کی فطرت میں بھوک کا مادہ ڈال دیا گیا ہے جس کے بنا کسی انسان کا زندہ رہنا محال ہے چنانچہ اسی مناسبت سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ انسان سدا کا بھوکا ہے۔ اور اس کی بھوک اور پیاس اس کے دائمی اور ابدی مقام جنت میں ہی دور ہوسکتی ہے اس سے پہلے نہیں۔


آج سے کئی سالوں پہلے ایک انگریز مفکر نے اپنی تحقیق میں درج کیا تھا کہ انسان تو دراصل اس دنیا کا باسی ہی نہیں بلکہ وہ تو کسی اور ہی سیارے کی مخلوق ہے جبھی تو دیگر حیوانات کے مقابلے میں اس کی نہ صرف جلد اور جسم حساس ہے بلکہ دیگر ضروریات زندگی میں بھی وہ دنیاوی اسباب کا محتاج رہتا ہے مثال کے طور پرانسان سردی وگرمی کی شدت سے بہت جلد متاثر ہوجاتا ہے اور اسی لئے سردیوں میں گرم جبکہ گرمیوں میں ہلکے اور نرم کپڑے پہننے کا محتاج ہوتا ہے۔ اسی طرح آرام کرنے اور لیٹنے بیٹھنے کے لئے اسے ایک آرام دہ جگہ کی ضرورت محسوس ہوتی ہے جس کے بغیر اسے سکون و اطمینان بخش نیند میسر نہیں آتی۔ لیکن اس کے برعکس کتے، بلی،بھیڑ، بکری اور دیگر جانوروں میں ان کی مخصوص فرنہ صرف انہیں ہر قسم کے موسمی حالات میں سکون کے ساتھ رہنے کو یقینی بناتی ہے بلکہ نیند لینے یا آرام کرنے کے لئے انہیں کسی آرام دہ جگہ یا اس کے اسباب جمع کرنے کی چنداں ضرورت پیش آتی ہے۔ 


اسی طرح ایک انسان کو جب بھوک لگتی ہے تو وہ کھانے پینے کی چیزوں کو جانوروں کی طرح کچا ہی نہیں کھا  جاتا بلکہ اسے پکانے کے لئے


کتنی مشکلوں سے توملا ہے یہ!

سو سو جتن کرتا ہے تب کہیں جاکر کھانے کے یہ نوالے اس کے حلق سے نیچے اترتے ہیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہم انسانوں کا قیام اس دنیا میں عارضی ہے اور یہاں دیگر حیوانات کے برعکس اسے اپنی بھوک مٹانے کے لئے طرح طرح کے طریقہ اختیار کرنے پڑتے ہیں۔ کبھی آپ نے یہ سوچا کہ انسانی سرشت اچھے سے اچھا کھانا ہی کیوں مانگتی ہے؟ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اشرف المخلوقات ہونے کے ناطے انسان ایک بہترین غذا کا مستحق ہے ۔ الغرض زمین ان حیوانات کے لئے ہر طرح سے موزوں ہے جبکہ انسانوں کے لئے قطعی موزوں نہیں۔ 


دراصل ہماری تمام تر راحت اور سکون کا سامان تو اس دنیا کے بجائے آخرت میں جمع کردیا گیا ہے کیونکہ وہاں نہ تو ہمیں بھوک لگے گی اور نہ ہی پیاس بلکہ وہاں تو ہماری خواہش اور دل چاہنے کی بدولت کھانے پینے کا سامان من چاہی صورتوں میں ہمارے سامنے حاضر ہوتا رہے گا۔ وہاں نہ توہمیں کھانے کی اشیا کو پکانے کی ضرورت ہوگی اور نہ ہی اسے محفوظ رکھنے کے لئے جتن کرنے ہوں گے۔ (سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم)

اللہ پاک ہم سب کو اس جہانِ فانی سے نکال کر اپنی ابدی جنتوں میں جگہ عطا فرمائے۔ آمین

تبصرے