جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ ڈینگی بخار ایک نہایت مہلک بیماری ہے جس کا مناسب طریقے سے علاج نہ کیا جائے تو یہ جان لیوا بھی ثابت ہوسکتی ہے۔ چونکہ ڈینگی بخار کی وجہ سے جسم میں خون کے سفید ذرات یا پلیٹلٹس کی تعداد خطرناک حد تک کم ہوجاتی ہے اسی لئےاس کے نتیجہ میں مریض کی قوت مدافعت بھی نہایت کمزور ہوجاتی ہے۔ اوپر سے الٹی، دست اور ڈائریا کے سبب مریض کو اس قدر نقاہت محسوس ہوتی ہے کہ وہ باوجود کوشش کے خود سے واش روم تک جانے سے بھی محروم ہوجاتا ہے۔
کچھ کھانے پینے کا من نہ کرنے اور معدہ میں کسی غذا کے نہ رکنے کی وجہ سے مریض کی حالت دن بدن گرتی چلی جاتی ہے۔ چنانچہ پلیٹلٹس کی خطرناک حد تک کمی اور جملہ علامات پر قابو پانے کے لئے عموماً ہمارے یہاں پیپتے اور اس کے پتوں کے جوس کا استعمال کیا جاتا ہے۔ جس کے حیرانگیز نتائج آنا شروع ہوجاتے ہیں۔
اگرچہ اس حوالے سے مقامی ماہرین امراض وخون کا کہنا یہ ہے کہ اس بات کا کوئی سائنٹیفک ثبوت موجود نہیں کہ ڈینگی فیور میں پپیتے یا اس کے پتوں سے پلیٹلٹس بڑھنا شروع ہوجاتے ہیں یا بخار ٹھیک ہوجاتا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ ڈینگی کی سب سے اہم علامات میں مریض کو شدید بخار ہوتا ہے جو میڈیسن کے استعمال سے چند گھنٹے ٹھیک رہنے کے بعد دوبارہ شروع ہوجاتا ہے۔ بخار پانچ دنوں تک رہتا ہے جس کے بعد پلیٹلٹس کی تعداد گرنا شروع ہوجاتی ہے۔ مقامی ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ مقامی افراد اس غلط فہمی میں مبتلا ہوگئے ہیں کہ پپیتے کے جوس سے پلیٹلٹس بڑھنا شروع ہوجاتے ہیں حالانکہ ڈینگی بخار کے آٹھویں اور نویں روز قدرتی طور پر پلیٹلٹس کی تعداد ایک مرتبہ پھر بڑھنا شروع ہوجاتی ہے۔
دوسری جانب اگر ہم پپیتے کے فوائد کا جائزہ لیں تو میڈیکل سائس کہتی ہے کہ پپیتا نہ صرف نیوٹریشنز سے بھرپور ہے بلکہ یہ ایک قسم کا قدرتی اینٹی آکسیڈنٹ بھی ہے جو دل کی کئی بیماریوں میں مفید ہونے کے ساتھ ساتھ کینسراور دیگرمتعدی امراض کے خلاف بھی قوت مدافعت رکھتا ہے۔ قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ اپنے خواص میں پپیتا غذا کو جلد ہضم کرنے میں بھی بڑی مدد فراہم کرتا ہے۔ لہٰذا یہ کہنا قطعی غلط ہے کہ پپیتا ڈینگی میں موثر نہیں ہے۔
علاوہ ازیں ہمارے عزیزواقارب میں بھی ایسے کئی افراد موجود ہیں جن کے پلیٹلٹس ڈینگی کے باعث خطرناک حد تک گر چکے تھے مگر جب انھیں پپیتے اور ان کے پتوں کا جوس پلایا گیا تو حیرت انگیز طور پر ان کے پلیٹلٹس نارمل رینج میں واپس آنا شروع ہوگئے۔ اگر اس دوران ہم ان کے پلیٹلٹس نارمل ہونے کے لئے آٹھ سے نو دن پورے ہونے کا انتظار کرتے تو ان کی جان جانے کے زیادہ چانسز ہوتے۔ لہٰذا تجربات سے یہ بات مکمل طورپر واضح ہوجاتی ہے کہ ڈینگی بخار میں پپیتے اور ان کے پتوں کا جوس نہایت مفید ثابت ہوتا ہے۔ نیز اگر مریض کو گنے کا جوس بھی ساتھ ساتھ پلانا شروع کردیا جائے تو فوائد دوگنے ہوجاتے ہیں۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں