پاکستان میں سردی کی شدید ترین لہر متوقع

درجہ حرارت نقطہ انجماد سے بھی نیچے جاسکتا ہے

محکمہ موسمیات کے مطابق 25 اور 26 دسمبر سے سردی کی ایک شدید لہر پاکستان میں داخل ہورہی ہے جس سے درجہ حرارت 1 سے 2 ڈگری یا نقطہ انجماد سے ایک تا دو درجہ بھی نیچے جاسکتا ہے۔ غالب امکان یہی ہے کہ سردی کی اس لہر سے پاکستان میں گزشتہ 52 سالوں کا ریکارڈ ٹوٹ جائے گا۔

پاکستان میں سردی کی شدت میں اضافہ سائبریا سے چلنے والی سرد ہواوں کے نتیجہ میں ہوگا جبکہ یہ سرد ہوائیں 28 سے 29 دسمبر تک پاکستان کے ساتھ ساتھ انڈیا میں بھی کاروباری نقل وحمل اور معمولات زندگی کو بری طرح متاثر کرنے کا سبب بن سکتی ہیں۔ 

قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ اسی دوران 26 دسمبر صبح 8:41 بجے مکمل سورج گرہن ہونے کی پیش گوئی بھی کی گئی ہے جس کا دورانیہ 2 گھنٹے پر مشتمل بتایا گیا ہے۔


دو گھنٹے پر محیط طویل ترین دورانیہ پر مشتمل اس سورج گرہن کو گزشتہ 20 سالوں میں سب سے بدترین سورج گرہن بتایا جارہا ہے جس سے چمکتا دن سرخ اندھیرے میں تبدیل ہوجائے گا جبکہ اس دوران درجہ حرارت کے مزید گرنے کا بھی خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔


ظاہر سی بات ہے کہ اہلیان کراچی ملک کے بالائی علاقوں کے مقابلہ میں ایک گرم علاقے سے تعلق رکھتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ اس قدر سرد موسمیاتی تبدیلی سے قطعی ناآشنا ہوتے ہیں چنانچہ سردی کی اس شدید لہر سے دیگر شہروں سے زیادہ  متاثر ہونے کا خطرہ کراچی کے شہریوں کو سب سے زیادہ ہوگا۔

لہذا ایسی صورتحال میں شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے گرم کپڑوں اور جیکٹس وغیرہ کے استعمال کو یقینی بنانا ہوگا۔ نیز اس دوران اپنے اردگرد بسنے والے لوگوں کو اس حوالے سے آگاہی فراہم کرنے کی بھی ضرورت ہے جبکہ غریب لوگوں کی مدد گرم کپڑوں، سوئٹرز اور جیکٹس کی شکل میں کی جائے تو زیادہ بہتر اجر کا باعث ہوگا۔


واضح رہے کہ سردی کی شدید ترین لہر میں دمہ و سانس کی بیماری میں مبتلا افراد کے بہت زیادہ متاثر ہونے کا خدشہ ہوتا ہے اور ایسے موسم میں احتیاطی تدابیرنہ اپنائی جائیں تو مرض کی شدت میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ اس دوران چھوٹے بچوں کو گرم کپڑے پہنانے کے ساتھ ساتھ ٹوپی کے استعمال کو بھی یقینی بنایا جائے تو وہ ٹھنڈ سے محفوظ رہ سکیں گے۔ دوسری جانب ایسے سرد موسم میں بلا ضرورت چھوٹے بچوں کا گھروں سے نکلنا بھی خطرے سے خالی نہ ہوگا۔

تبصرے