سنگھاڑے ہمارے لئے کیوں مفید ہیں؟

 (water chestnut) سنگھاڑا


سردیوں کی شروعات ہو اور مارکیٹ میں سنگھاڑے نظر نہ آئیں یہ ممکن نہیں کیونکہ ایک تو سنگھاڑے سردیوں کی سوغات میں سے ہیں اور دوسرے یہ کہ انھیں عرصہ دراز سے اطبا اپنی ادویات میں استعمال کرتے چلے آرہے ہیں۔ عموماً ہمارے یہاں سنگھاڑوں کو بھون کر، ابال کر یا ویسے کچا بھی کھایا جاتا ہے جبکہ بعض گھروں میں اس کے آٹے سے روٹیاں  پکائی جاتی ہیں۔



جو لوگ سنگھاڑوں کی افادیت سے آگاہ ہیں انہیں مختلف طریقوں سے استعمال کرتے ہیں مثال کے طور پر مربہ اور سلاد کے طور پر بھی کھاتے ہیں۔ چونکہ سنھگھاڑوں میں آئرن، پوٹاشیم، کیلشیم، زنک اور فائبر کی وافر مقدار پائی جاتی ہے اسی لئے یہ جسمانی کمزوری اور دبلے پن کو دور کرنے کے لئے نہایت مفید ثابت ہوتے ہیں۔



سنگھاڑے گرم مزاج والے افراد کی قوت باہ کو فائدہ پہنچانے کے ساتھ ساتھ جریان منی کو بھی دور کرتے ہیں۔ نیز ان کے استعمال سے بار بار پیشاب آنے کی شکایت بھی رفع ہوجاتی ہے۔



سنگھاڑوں کو بطور آٹا دودھ اور چینی کے ہمراہ گوندھ کر کھانے سے پیچش اور پیٹ کی جلن کا خاتمہ ہوتا ہے۔ اسی طرح خونی دستوں کو بند کرنے اور مقعد کے زخم دور کرنے میں بھی یہ نہایت مفید ثابت ہوتے ہیں۔



چونکہ یہ خون روکنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں اس لئے سنگھاڑوں کو زخموں سے خون جاری ہونے پر بھی استعمال کرایا جاتا ہے جس کے لئے اندرونی استعمال کے ساتھ ساتھ بیرونی طور پر سفوف کی شکل میں چھڑکا جاتا ہے۔



اگرچہ آئرن، فائبر، پوٹاشیم، کیلشیم، زنک وغیرہ کی بھرپور مقدارکی بدولت سنگھاڑے کمزور اور دبلے پتلے افراد کے لئے  نہایت موزوں قرار دیئے گئے ہیں لیکن قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ یہ دل کی کئی بیماریوں کے لئے بھی نفع بخش ثابت ہوئے ہیں۔ الغرض سردیوں میں سنگھاڑوں کا استعمال کرکے ہم بھرپور طریقہ سے غذائی افادیت اور طبی فوائد حاصل کرسکتے ہیں۔

تبصرے