بلدیاتی الیکشن میں ووٹ کاسٹ کرتے ہوئے |
خیبرپختونخواہ کے بلدیاتی الیکشن کے پہلے مرحلے میں پاکستان تحریک انصاف کی شکست کی بنیادی وجہ موجودہ حکومت کی ناقص ترین کارکردگی ہے جس نے گزشتہ ساڑھے تین برسوں میں عوام میں اپنی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ قوم کی امیدوں پر بھی پانی پھیر دیا ہے۔
یہ بحث اپنی جگہ کہ پاکستان تحریک انصاف کیونکر برسراقتدار آنے میں کامیاب ہوئی لیکن اگر ہم صرف حکومت کی ساڑھے تین سالہ کارکردی کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ پی ٹی آئی نے تو محض 90 دن کے اندر تبدیلی لانے کا اعلان کیا تھا اور وزیراعظم عمران خان سمیت ان کی کابینہ بڑے وثوق سے ایک طرف تولاکھوں شہریوں کو سرکاری ملازمتیں دینے اور انھیں سستے گھروں کی فراہمی یقینی بنانے کی نوید سنارہے تھے تو دوسری طرف قوم کے لوٹے گئے اربوں ڈالرز وطن واپس لانے کے بلنگ وبانگ دعوے کرتے دکھائی دے رہے تھے۔
مگر اس کے برعکس ہوا کیا؟ قوم حکومت کے ماہ وسال گزرتے دیکھتی رہی مگر تبدیلی کسی صورت آکر نہیں دی۔ البتہ تبدیلی نظر آئی تو محض مہنگائی اور بیروزگاری کی صورت میں، بیرونی قرضے دوگنے ہوجانے کی صورت میں، پٹرول 146 روپے ہوجانے اور ڈالر 180 روپے ہوجانے کی صورت میں۔ گھی، چینی، آٹا، دالیں اور غذائی اجناس کے کئی گنا مہنگے ہوجانے کی صورت میں۔ لہٰذا دو وقت کی روٹی بمشکل کمانے والی عوام کو ایسی تبدیلی کیونکر راس آسکتی تھی؟
چنانچہ اس کا اندازہ خیبرپختونخواہ میں بلدیاتی الیکشن کے پہلے مرحلے میں 17 اضلاع میں میئر اور تحصیل چیرمین کے انتخابات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے جس میں پی ٹی آئی 11 سیٹوں کے ساتھ اب تک دوسرے نمبر پر ہے جبکہ جمعیت علمائے اسلام(ف) تحصیل چیئرمین کی 20 سیٹوں کے ساتھ سرفہرست ہے۔ اے این پی اور آزاد امیداروں کو بھی پی ٹی آئی کے مقابلہ میں کافی پذیرائی ملی ہے جو بالترتیب 7 اور 9 سیٹیں جیتنے میں کامیاب رہے ہیں۔
حکمران جماعت کی ماضی قریب میں اپنے اکثریتی حمایت یافتہ علاقوں میں شکست نے اس بات کی قلعی پوری طرح کھول کر رکھ دی ہے کہ موجودہ حکومت پر سے عوام کا اعتماد اٹھ چکا ہے اور عوام ایسا کرنے میں اس لئے بھی حق بجانب ہیں کہ حکومت وقت نے گزشتہ ساڑھے تین سالوں میں محض زبانی جمع خرچ، جھوٹے دعووں اور وعدوں کے سوا کچھ نہیں کیا جس کا اندازہ اشیائے خوردونوش، ادویات، تیل، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ سے باآسانی لگایا جاسکتا ہے لہٰذا یہی وجوہات ہیں جن کی بنا پر عوام اب ایک نیا نظام حکومت دیکھنے کے خواہاں ہیں۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں