جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ رواں برس 15 اگست کو جب افغانستان پر طالبان برسراقتدار آئے تو امریکہ اور اس کے حواریوں کی جانب سے نہ صرف افغانستان کی مالی امداد کا سلسلہ روک دیا گیا تھا بلکہ بیرونی دنیا میں موجود افغان حکومت کے اربوں ڈالرز کے اثاثے بھی منجمد کردیئے تھے۔
اس کے برعکس عالمی ادارے دہشت گردی کی نام نہاد جنگ میں 2001 سے 2021 تک افغان حکومت کو وسیع پیمانے پرمالی معاونت کررہے تھے لیکن افغانستان پر طالبان حکومت کے قیام کے ساتھ ہی عالمی امداد کا یہ سلسلہ بند ہوگیا اور افغانیوں کو معاشی ابتری کی اس نازک ترین صورتحال سے نمٹنے کے لئے تنہا کردیا گیا۔
چنانچہ ان مشکل حالات میں ڈالر کے مقابلہ میں افغانی کرنسی بڑی تیز رفتاری کے ساتھ گرنا شروع ہوگئی اور 130 تک جاپہنچی لیکن طالبان قیادت کی دوراندیشی اور بروقت اس کی روک تھام کے کو یقینی بنایا گیا جس سے یہ کرنسی 100 تک واپس آنے میں کامیاب ہوگئی۔
لہذا اس تمام پس منظر میں نئی افغانی حکومت کی جانب سے 20 سالوں بعد ایک ایسا خودکفیل بجٹ پیش کیا گیا ہے جس میں پہلی مرتبہ عالمی طاقتوں پر انحصار کرنے کے بجائے ملک چلانے کے لئے داخلی ذرائع آمد پر انحصار کیا جائے گا۔ بلاشبہ طالبان حکومت کا یہ اقدام بھی سراہے جانے کے قابل ہے جو محض 5 ماہ کے قلیل عرصہ میں آئندہ دسمبر تک کا بجٹ بنانے میں کامیاب ہوگئی ہے۔
اس بجٹ کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ اس میں نادار اور یتیم افراد کی کفالت کے منصوبے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ جس کی تکمیل کے لئے ایک نئے اسلامی ٹیکس کا نفاذ کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ دو ہفتے قبل ہی طالبان قیادت کی جانب سے خواتین کے حقوق کے حوالے سے ایک اعلامیہ جاری کیا گیا تھا جس کی رو سے اب خواتین کو وراثت میں برابر کا حصہ دار بنایا گیا ہے۔ اسی طرح نئے قوانین کے تحت بیواوں کو مرضی کی شادی کا حق دیا گیا ہے۔
خودکفیل بجٹ کے حوالے سے افغانستان کے ترجمان وزارت خارجہ احمد ولی نے جمعہ کو ایک اعلان میں بتایا کہ حکومت کو دستیاب محصولات اور وسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نے بجٹ تیار کرلیا ہے۔ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں احمد ولی نے کہا کہ ہم اپنے داخلی ذرائع آمدن سے بجٹ کے لئے مختص رقم فراہم کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ ہم اس پوزیشن میں ہیں۔ تاہم انھوں نے بجٹ کے کل تخمینہ سے متعلق ابھی کچھ نہیں بتایا۔
احمد ولی نے ایک سوال کے جواب میں یہ بات تسلیم کی کہ حکومتی اہلکاروں اور سرکاری ملازمین کو کئی ماہ سے تنخواہیں ادا نہیں کی گئیں لیکن ان کا کہنا تھا کہ ہم کوشش کررہےہیں کہ رواں سال کے آخر تک ان ملازمین کے بقایا جات بہتر انداز میں ادا کئے جائیں۔
خیال رہے کہ افغانی حکومت نے گزشتہ ماہ 26 ارب افغانی کرنسی جمع کی تھی جس میں 13 ارب روپے کسٹم ڈیوٹی بھی شامل تھی۔ چنانچہ وزارت خزانہ کے ترجمان احمد ولی کا مزید کہنا تھا کہ ہم سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے لئے ایک نیا پے اسکیل بھی ترتیب دے رہے ہیں جس میں ان کی جملہ ضروریات کا خیال رکھا جائے گا۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں