قدرت کی جانب سے انواع واقسام کے کھانوں کی صورت میں ہمیں جو قابل قدر نعمتیں عطا ہوئی ہیں ان کے توسط سے ہم زمانے بھر کے پکوان اور لذت بھرے ذائقوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں چنانچہ اسی مناسبت سے بطور کھانا "چاولوں" پر نگاہ ڈالی جائے تو معلوم ہوگا کہ آج چاول تقریباً سبھی گھروں کی زینت اوربہار بن چکے ہیں۔ اور بعض گھرانے تو ایسے بھی ہیں کہ جہاں ہر کھانے کے ساتھ چاول بطور سائیڈ ڈش بنائے جاتے ہیں۔
درحقیقت چاول کھانے کا رواج روز افزوں بڑھتا چلا جارہا ہے حالانکہ آج سے کم وبیش چالیس پینتالیس سال قبل پاکستان میں چاولوں کی طلب اس قدر زیادہ نہ تھی اور ہمارے یہاں عموماً شادی بیاہ کے مواقع پرہی زردہ بریانی پکائے اور کھائے جاتے تھے۔
دلچسپت بات یہ ہے کہ اس دور میں گاوں دیہاتوں میں چاول کو بطور "کھانا" تصور ہی نہیں کیا جاتا تھا بلکہ اسے بعینہ آج کے بسکٹس اور اسنیکس کی مانند ہلکی پھلکی غذا سے تعبیر کیا جاتا تھا۔ ظاہر سی بات ہے کہ اس وقت لوگوں کسرتی جسامت کے مالک ہوا کرتے تھے اسی لئے ان کی خوراکیں بھی بہت تگڑی ہوا کرتی تھیں البتہ شہروں میں آباد لوگ ہفتہ میں ایک آدھ مرتبہ چاول ضرور کھالیتے تھے۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ گاوں دیہات کے لوگوں نے بھی چاولوں کا استعمال ایک غذا کے طورپرشروع کردیا۔
غالباً اس کی ایک بڑی وجہ شہری زندگی کی آرام طلبی اور سستی بھی رہی ہوگی جس میں اچھل کود اور بھاگ دوڑ کے مواقع دیہی علاقوں کے مقابلہ میں کئی گنا کم ہوتے ہیں چنانچہ ایسے میں کھائی گئی غذا کئی کئی گھنٹوں تک معدے پر گرانی کا باعث بنتی ہے اور اسی لئے لوگ جلد ہضم ہوجانے والی غذا میں چاولوں کو ترجیح دینے لگے ہیں۔ اور اب تو تقریباً سبھی گھروں میں چاولوں کو اس قدر ذوق و شوق سے کھایا جاتا ہے جیسے ان کے بنا زندگی ادھوری ہو۔
واضح رہے کہ سو گرام سفید چاولوں میں 130 حرارے موجود ہوتے ہیں جبکہ گندم کی سو گرام کی دو روٹیاں اس کے مقابلہ میں دوگنے حراروں کی حامل ہوتی ہیں۔ چنانچہ اس سے بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے کہ چاول ایک ہلکی اور زود ہضم غذا ہیں۔
الغرض چاولوں کی لذت اور افادیت اپنی جگہ لیکن بہرحال چاول اعتدال کے ساتھ کھانا ہی مفید ثابت ہوتا ہے جبکہ اسے ہر کھانے کی روٹین بنالینا درست نہیں البتہ اگر چاولوں کو ابال کر اس کی پیچ کا پانی پھینک دیا جائے تو یہ مزید ہلکے ہوجاتے ہیں۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں